Wednesday, December 1, 2021

شیعہ سنی تقسیم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس مضمون کا مقصد شیعہ سنی تقسیم کو ختم کرنا نہیں ۔کیونکہ پچھلے تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال سے دونوں طرف کے مذہبی علما، طاقتور سیاسی اور عسکری شخصیات اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ چنانچہ ایسی کوئی بھی کوشش لا حاصل ہے۔ جو کام ہم کرسکتے ہیں، بلکہ ہمیں کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اس کی حدود واضح کی جائیں۔ کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔شام (ساڑھے تین لاکھ ہلاکتیں)، عراق(ساڑھے چار لاکھ ہلاکتیں) اور یمن(ایک لاکھ تیس ہزار ہلاکتیں) میں ہونے والی فرقہ وارانہ جنگیں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ اگر فرقہ واریت کا یہ جن بوتل سے باہر نکل آیا تو کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ہم اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ امریکہ ، افگانستان مین اپنی شکست کا ذمہ دار پا کستان کو ٹہرا رہا ہے اورBJP کی حکومت میں بھارت بھی پاکستان کو آگ میں جلتا ہی دیکھنا چاہے گا۔اس تنا زعتے کو محدود کرنے کیلئے ہمیں دو بالکل واضح نکات کو تسلیم کرنا ہوگا: پہلی بات تو یہ کہ ہم تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتے۔جس نے جو بھی کہا یا کیا، اب  وہ تبدیل نہیں ہو سکتا، ایسے تمام حضرات اس دنیا سے جا چکے ہیں اوراب ان کا مقدمہ اللہ تعالی کی عدالت میں جا چکا ہے۔اللہ تعالی جو مناسب سمجھیں گے ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔اب ہم ان کے بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہیں کر سکتے۔ قرآن و  سنت میں مسلمانوں سے ایسا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا۔دوسر بات یہ کہ قرب قیامت کی علامات میں سے امام مہدی  کی آمد کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ شیعہ حضرات تو اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ بلاشبہ اہل بیت میں سے ہوں گے، جبکہ سنی حضرات اس  بات پر اتنا پختہ یقین نہیں رکھتے۔ لیکن دونوں حضرات اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو کوئی مسلمان بھی  ان پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کرے گا، بلکہ انہیں تمام مسلمان متفقہ طور پر اپنا راہ نما تسلیم کر لیں گے۔سوال یہ ہے کہ جب تک وہ تشریف نہیں لاتے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں اس تین رکنی منصوبہ اپنانا چاہئے:

1)   اپنے فرقے کی تعلیمات کے مطابق عمل کریں اور دوسرے  فرقے پر طنز نہ کریں

2)   ایسے تمام عالموں اور ذاکروں کے بیانات سننے سے گریز کریں جو دوسرے فرقوں کے بارے میں  منفی ذہنیت اور نفرت پھیلاتے ہیں، اگر ہم مندرجہ ذیل اقدامات کریں تو یہ مقصد بڑی آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے:

ان کی تنظیم اور جماعت کو چندہ نہ دیں

ان کے سوشل میڈیا چینلز  پر نہ جائیں، نہ ہی انہیں سبسکرائب کریں۔ یقین کریں ایسے لوگ صرف سوشل میڈیا پر پذیرائی چاہتے ہیں

3)   ایران اور سعودی عرب کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر سپورٹ کرنا چھوڑ دیں، اوپر بیان کی گئی تینوں مثالوں میں ان دونوں ممالک نے اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کیا، جبکہ خود ایک دن بھی آپس میں نہیں الجھے ۔ایسی  رپورٹس بھی ملتی ہیں کہ ایران نے پاکستان سے شیعہ نوجوانوں کو شام میں لڑنے کیلئے بھیجا اور سعودی عرب نے سوڈان ی نوجوانوں کو یمن میں لڑنے کیلئے بھیجا۔

میرا خیال ہے کہ اگر ہم ایسا کرلیتے ہیں تو ہمارے  یا ہمارے بچوں کے پاس امام مہدی کی قیادت میں لڑنے کا بہترین موقع ہوگا، ورنہ ان کی آمد سے پہلے ہی ہم آپس  میں لڑ کر خود کو ختم کرلیں گے